اڈپی 18/ جولائی (ایس او نیوز) سمندر سے نکلے کچرے کے ڈھیر میں سونے اور چاندی کے زیورات تلاش کرنے کے لئے بڑی تعداد میں مقامی لوگ ملپے ساحل پر چکر لگانے لگے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ مانسون کے موسم میں یہاں پر اس طرح سونا تلاش کرنا عام ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 35 لاکھ سے زائد سیاح ملپے ساحل آتے ہیں اور کھیل کود یا سمندر میں تیراکی کے دوران بہت سارے لوگوں کے زیورات وہاں کھو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ مذہبی رسوم کے طور پر بھی یہاں سمندر میں سونے کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں ۔
برسات کے موسم میں سمندری اچھال کے ساتھ اس کی تہہ میں موجود ساری چیزوں کو تیز موجیں ساحل پر لا کر پھینک دیتی ہیں ۔ اس طرح یہاں کچرے کا ڈھیر لگ جاتا ہے جس میں گم ہونے والے یا پھر سمندر میں پھینکے گئے سونے کے زیورات بھی موجود ہوتے ہیں ۔ اس وجہ سے تیز برسات کے بعد سمندر سے نکلنے والے کچرے کے اندر سونے اور چاندی کی چیزیں تلاش کرنے والے مقامی لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے ۔ مگر اس تلاشی مہم کے دوران کس کے ہاتھ کیا چیز لگی ہے اس کے بارے میں کوئی بھی کسی کو بتاتا نہیں ہے اوراس ضمن میں پوری رازداری برتی جاتی ہے ۔